قرآن · · 6 منٹ
سورۃ الملک: مفہوم، فضیلت اور رات کو اس کی تلاوت
تیس آیات، تقریباً پانچ منٹ کی تلاوت — اور یہ ان سورتوں میں سے ہے جنہیں مسلمان سب سے زیادہ رات کے معمول میں شامل رکھتے ہیں۔ یہاں جانیے کہ سورۃ الملک کیا کہتی ہے، اور احادیث اس کے بارے میں کیا بتاتی ہیں۔
مختصر جواب: سورۃ الملک قرآن مجید کی 67ویں سورت ہے، 30 آیات پر مشتمل ایک مکی سورت، جس سے 29واں پارہ شروع ہوتا ہے۔ اس کا موضوع مخلوق، زندگی اور موت پر اللہ کی بادشاہی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تیس آیتوں کی ایک سورت — «تبارک الذی بیدہ الملک» — اپنے پڑھنے والے کی سفارش کرتی ہے یہاں تک کہ اس کی مغفرت ہو جائے (ترمذی، ابو داود؛ حدیث حسن)۔
سورت کا تعارف
- نام: الملک، یعنی ”بادشاہی“، جو اس کی پہلی آیت سے لیا گیا ہے۔ اسے اس کے پہلے لفظ تبارک سے بھی جانا جاتا ہے۔
- مقام: قرآن کی 67ویں سورت، مکہ میں نازل ہوئی؛ 30 آیات۔
- مصحف میں: اس سے 29واں پارہ (تبارک الذی) شروع ہوتا ہے، مدینہ مصحف کے صفحہ 562 پر۔
اس کا آغاز یوں ہوتا ہے:
تَبَٰرَكَ ٱلَّذِي بِيَدِهِ ٱلۡمُلۡكُ وَ هُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءࣲ قَدِيرٌ
ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلۡمَوۡتَ وَ ٱلۡحَيَوٰةَ لِيَبۡلُوَكُمۡ أَيُّكُمۡ أَحۡسَنُ عَمَلࣰا ۚ وَ هُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡغَفُورُ
سورت کا مضمون
- اللہ کی بادشاہی اور زندگی کی آزمائش (1–5)۔ موت اور زندگی اس لیے پیدا کی گئیں کہ آزمایا جائے کہ کون عمل میں سب سے اچھا ہے۔ سات آسمانوں کو بار بار دیکھو: تمہیں ان میں کوئی خلل نظر نہیں آئے گا۔
- تنبیہ اور پچھتاوا (6–11)۔ دوزخ والوں سے پوچھا جائے گا کہ کیا تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا؟ وہ کہیں گے: ”اگر ہم سنتے یا سمجھتے ہوتے تو دوزخ والوں میں نہ ہوتے۔“
- وہ جو سب جانتا ہے (12–14)۔ جو لوگ بن دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں ان کے لیے مغفرت اور بڑا اجر ہے۔ تم اپنی بات چھپا کر کہو یا کھل کر، وہ دلوں کے بھید جانتا ہے — ”کیا وہ نہ جانے جس نے پیدا کیا؟“
- روزمرہ زندگی میں نشانیاں (15–24)۔ زمین کو چلنے پھرنے اور رزق تلاش کرنے کے لیے تابع بنا دیا گیا؛ پرندوں کو فضا میں رحمٰن کے سوا کوئی تھامے ہوئے نہیں؛ کان، آنکھیں اور دل اسی کی عطا ہیں — ”تم بہت کم شکر کرتے ہو۔“
- آخری سوالات (25–30)۔ اگر تمہارا پانی زمین میں اتر کر غائب ہو جائے تو کون ہے جو تمہارے لیے بہتا ہوا پانی لے آئے؟
اس کی فضیلت
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”قرآن میں تیس آیتوں کی ایک سورت ہے جس نے ایک آدمی کی سفارش کی یہاں تک کہ اسے بخش دیا گیا۔ وہ سورت «تبارك الذي بيده الملك» ہے۔“
امام ابو داود نے یہی حدیث ان الفاظ کے ساتھ روایت کی ہے: ”…اپنے پڑھنے والے کی سفارش کرے گی یہاں تک کہ اس کی مغفرت ہو جائے“ (سنن ابی داود 1400)، اور ابن ماجہ میں بھی یہ موجود ہے (3786)۔
رات کو اس کی تلاوت
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ اس وقت تک نہیں سوتے تھے جب تک الم تنزیل (سورۃ السجدہ) اور تبارک (سورۃ الملک) نہ پڑھ لیتے — جامع ترمذی 2892۔ علماء نے اس روایت کی سند پر کلام کیا ہے، لیکن سونے سے پہلے سورۃ الملک پڑھنا مسلمانوں کا پرانا معمول رہا ہے، اور اوپر بیان کی گئی فضیلت کسی خاص وقت کے ساتھ مقید نہیں۔
بعض دوسری روایات میں سورۃ الملک کو عذابِ قبر سے بچانے والی بتایا گیا ہے؛ ان میں سے بعض کی سند کی مضبوطی میں علماء کا اختلاف ہے۔ جو بات پختہ طور پر ثابت ہے وہ اوپر والی سفارش کی حدیث ہے — اور اس سورت کو اپنا ساتھی بنانے کے لیے یہی کافی ہے۔
اسے معمول بنائیں
- معنی کے ساتھ پڑھیں۔ عربی متن کے ساتھ ترجمہ کھول کر پانچ منٹ پڑھنا تلاوت کو غور و فکر میں بدل دیتا ہے۔
- حصوں میں یاد کریں۔ روزانہ تین آیات، اور دس دن میں پوری سورت یاد ہو جائے گی۔
- جب پڑھ نہ سکیں تو سن لیں — گھر واپس آتے ہوئے، یا سونے سے پہلے۔
عام سوالات
سورۃ الملک میں کتنی آیات ہیں؟
تیس۔ یہ قرآن مجید کی 67ویں سورت ہے، مکہ میں نازل ہوئی، اور اس سے 29واں پارہ شروع ہوتا ہے۔
سورۃ الملک کی کیا فضیلت ہے؟
نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تیس آیتوں کی ایک سورت، «تبارک الذی بیدہ الملک»، اپنے پڑھنے والے کی سفارش کرتی ہے یہاں تک کہ اس کی مغفرت ہو جائے (ترمذی 2891، ابو داود 1400؛ حدیث حسن)۔
سورۃ الملک کب پڑھنی چاہیے؟
کسی بھی وقت۔ بہت سے مسلمان حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی اس روایت کی بنا پر ہر رات سونے سے پہلے اسے پڑھتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ اسے پڑھے بغیر نہیں سوتے تھے۔




